اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

MUST READ

دو دانک گوں رودراتکی بلوچستان ءِ راجی رھشوناں

دو دانک گوں رودراتکی بلوچستان ءِ راجی رھشوناں

شھمیر اکبرخان مدامی نمیران انت

شھمیر اکبرخان مدامی نمیران انت

گلزمین ءِ تلاهیں کوه ءُ نوکیں ٹیل ءُ گیسءِ مــأدن

گلزمین ءِ تلاهیں کوه ءُ نوکیں ٹیل ءُ گیسءِ مــأدن

آیاعربستان سعودی بہ منابع طبیعی ومعادنِ بلوچستان چشم دوخته است؟

آیاعربستان سعودی بہ منابع طبیعی ومعادنِ بلوچستان چشم دوخته است؟

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

بلوچ ورنایانی کشت ءُ کوش تروریستی سپاه ءِ کارانت

بلوچ ورنایانی کشت ءُ کوش تروریستی سپاه ءِ کارانت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

بلوچستــــان گلزميـــن اجـــدادی ماســـت

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

Baloch National poet Qazi Mubarak visits Voice for Baloch Missing Persons protest camp

از شیخ خزعل تا شهید احمد نیسی

از شیخ خزعل تا شهید احمد نیسی

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

طرح توسعه سواحل مکران – پندلے په بلوچستـــان ءِ مدامی زوربرد کنگ ءَ – اولی بهـر

شهید کمبر چاکر

شهید کمبر چاکر

مکران آپریشنوں کے پیچھے اصل محرک پاکستان وچین معاہدات ہیں،حیر بیار مری

مکران آپریشنوں کے پیچھے اصل محرک پاکستان وچین معاہدات ہیں،حیر بیار مری

حسیـن معروفـی کیست؟

حسیـن معروفـی کیست؟

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

حالیہ نصیرآباد میں بلوچ خواتین اور بچوں کی پاکستانی فوج کی جانب سے اغواه کی شدید مذمت کرتا هوں بے – جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب

حالیہ نصیرآباد میں بلوچ خواتین اور بچوں کی پاکستانی فوج کی جانب سے اغواه کی شدید مذمت کرتا هوں بے – جی پی کے ترجمان انیل بالونی صاحب

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

2020-03-26 14:02:39
Share on

کوئٹہ / بی ایل ایف  کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ قابض ریاستی مردم شماری میں حصہ لینے والے دشمن تصور کیے جائیں گے اور انکے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قابض فورسز کے ساتھ ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری مشینری ایک انجنیئرڈ مردم شماری کی تیاری میں مصروف ہے۔ جہاں بلوچ قوم کی آبادی کو اقلیت میں دکھانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ جس کا خدشہ ہر بلوچ پاکستان کا بلوچستان پر قبضے کے بعد سے کرتا آرہاہے۔ بلوچ نسل کشی میں ہزاروں بلوچوں کا قتل، لاکھوں بلوچوں کی بلوچستان سے بے دخلی، لاکھوں غیر بلوچوں کی بلوچستان منتقلی و آبادکاری ، لاکھوں ایکڑ زمین لیز پر دینے کے بعد مردم شماری کا ڈرامہ بلوچ قوم کو اپنے ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک دیرینہ سازش ہے، جسے قابض پاکستان اب تکمیل کی طرف لے جانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لہٰذا اس مردم شماری میں حصہ لینے والے دشمن تصور کیے جائیں گے اور انھیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قابض ریاست پاکستان کی بلوچستان میں مردشماری بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا ایک نیا سامراجی منصوبہ ہے جس کے ذریعے اقوام عالم میں بلوچوں کی کم آبادی دکھانا اور بلوچستان میں جاری تحریک آزادی کو دہشتگردتحریک ثابت کرنا مقصود ہے۔ جو مردم شماری کے ذریعے ہی ممکن ہو پائے گا۔پاکستانی سرکارمردم شماری کے لئے تمام سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ کی خدمات حاصل کریگی لہذا بلوچ قوم سمیت اساتذہ و سرکاری ملازمین قابض ریاستی مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں۔گذشتہ کئی سالوں سے بلوچ قومی تحریک آزادی کے خاتمے میں ناکام قابض فورسز و اس کی مشینری کا لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنا ، انکی مسخ لاشیں پھینکنا سمیت انسانی آبادیوں پر بمبارمنٹ کرنا اور کئی علاقوں کو خالی کرکے بلوچستان بدر کرنے جیسے تمام ہتھکنڈوں کو استعمال کرنے کے بعد کامیابی نہ ملی تو ان کی پالیسی سازوں نے اس آخری آپشن کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ۔گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان میں قوم آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اور کسی صورت بھی قابض ریاست کو مردم شماری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی قوانین کے مطابق جنگ زدہ علاقوں میں مردم شماری کا تصور نہیں ہے۔ مردم شماری شماری کیلئے حالات کا سازگار ہونا اور تمام مکینوں کی موجودگی شرط ہے۔ جبکہ پاکستان کی جبر سے لاکھوں بلوچ بلوچستان چھوڑ کر سندھ و دیگر علاقوں میں دربدر کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ لہٰذا تمام سرکاری ملازمین بشمول اساتذہ سے اپیل ہے کہ وہ ریاستی معاون کاری سے گریز کرتے ہوئے مردم شماری میں حصہ نہ لیں۔گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ بی ایل ایف قابض ریاستی مرد م شماری میں حصہ لینے والے فورسز سمیت ان تمام معاون کاروں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے چکی ہے۔کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص نے مردم شماری سرانجام دینے میں حصہ لیا تو اسے دشمن سمجھا جائے گا اور اسکے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قابض ریاستی فورسز کے ساتھ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض ریاست کا بزور طاقت مقبوضہ بلوچستان میں مردم شماری کا مقصد بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کا اہم ہتھکنڈہ ہے ،جسے بی ایل ایف کے سرمچار کسی صورت بھی پورا ہونے نہیں دینگے اور وہ بھر پور مزاحمت کرینگے۔اُمید ہے بلوچ قوم پچھلے انتخابات کی طرح مردم شماری کا بائیکاٹ کرکے ہمیشہ کی طرح آزادی پسندوں کاساتھ دیں گے۔گہرام بلوچ نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید کہا کہ ضلع آواران کے کولواہ میں بزداد پمپ کے قریب پاکستانی فوج کی سات گاڑیوں کے قافلے پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے متعدد اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کیا۔ کل آوارن میں لباچ کے مقام پر فوجی چیک پوسٹ پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ یہ حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

Share on
Previous article

اساتذہ و سرکاری ملازمین مردم شماری میں حصہ لینے سے گریز کریں،سخت حملے کریں گے، بی ایل ایف

NEXT article

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

LEAVE A REPLY