انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

MUST READ

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

بلوچ عوام دشمن کے عزائم خاک میں ملانے میں کامیاب ہوئے ، اس موقع پر بلوچ عوام کا شکر گزار ہوں۔تمام بلوچ پارٹیوں اور تنظیموں کو اپنے گروہی و انفرادی مقاصد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک اصولی یکجہتی اور ہم آہنگی کیلئے آگے بڑھنا چاہئے ۔بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

شھید حمید بلوچءِ پیغامءِ چا مچ جیلءَ – توار سرمچار وبلاگ

شھید حمید بلوچءِ پیغامءِ چا مچ جیلءَ – توار سرمچار وبلاگ

سلمان میایی را بی گناه پرپر کردند – علی میایی جدگال

سلمان میایی را بی گناه پرپر کردند – علی میایی جدگال

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

جیش العدل کے کمانڈر ایوب بلوچ سے هماری گفتگو کا خلاصہ

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

حامد بھائی تینوں رب دیاں رکھاں (یہ عنوان میں نے جناب ڈاکٹر صفدر محمودصاحب کے کالم سے مستعار لی ہے) کردگار بلوچ

غارت گستردهٔ معادنِ بلوچستان اِشغالی

غارت گستردهٔ معادنِ بلوچستان اِشغالی

نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

تربت: فورسز نے محاصرہ شدہ مکان سے خاتون کو دو بچوں سمیت نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا

تربت: فورسز نے محاصرہ شدہ مکان سے خاتون کو دو بچوں سمیت نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ بخش پنجـم

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

بهارت کا بلوچ سیاسی کارکنوں کو سیاسی پناه دینا زیر غور هے – بی جے پی رهنما انیل بالونی

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

واجہ شھید پروفیسر صبا دشیاريءِ 26 اگست 2009ءَ بلوچستان لیبریش چارٹر ءُ آھيءِ رھدربريءِ بابتءَ تران

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

سچ وہی جو جھوٹا بولے – کردگار بلوچ

انڈیا سمینار میں حیربیار مری کا خصوصی پیغام

2020-03-30 16:58:20
Share on

دہلی / بھارت میں منعقد سیمینار ’’ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ،گلگت بلتستان ،بلوچستان اور سندھ میں پاکستانی جبر ‘‘ میں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری کا پڑھا گیا پیغام
مجھے یہاں اس سیمینار میں مدعو کرنے کا میں بہت شکرگزار ہوں ، میرا نام بالاچ پردلی بلوچ ہے ، میں آزادی پسند بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام پڑھوں گا ۔حیربیار مری موجودہ بلوچ قومی تحریک آزادی کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔
سنہ 1948 میں پاکستان کا بلوچستان پر قبضے سے لیکر آج تک پاکستان بلوچستان میں تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے پانچ وسیع پیمانے کے فوجی آپریشن کرچکا ہے۔ان فوجی جارحیتوں کے جدید دور کا آغاز سنہ 2000 میں ہواجو ہنوز جاری ہے۔ان میں سے ہر آپریشن میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو انکے گھروں اور علاقوں سے بیدخل کیا گیا ، ہزاروں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا اور سینکڑوں کو بلا امتیاز بمباریوں میں شہید کیا گیا۔ جن میں بلوچ آبادیوں پر دور مار توپوں، لڑاکا جہازوں اور کوبرا ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔
صرف گذشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی فوج 19000 سے زائد بلوچ مرد و زن اور بچوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری طور پر اغواء کرکے لاپتہ کرچکا ہے ۔ان میں سے ہزاروں کو حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بناکر شہید کرکے انکی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کی طول و عرض، کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں پھینکی گئیں ہیں ۔یہ فوجی آپریشنیں ، مارو اور پھینکو اور بلوچ کارکنوں کے جبری اغواوں کا سلسلہ تادم اپنے مکمل شدت کے ساتھ جاری ہے۔جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے پاکستان میں انصاف کے ہر دروازے کو اپنے پیاروں کی خاطر کھٹکٹھایا لیکن کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا ۔حتیٰ کے انہوں نے کوئٹہ سے لیکر اسلام آباد تک ایک پیدل مارچ کا انعقاد کیا تاکہ اپنی آواز اقوام متحدہ تک پہنچا سکیں لیکن اقوام متحدہ نے بھی انکے اس پرامن مارچ اور مدد کیلئے پکار کو یکسر نظر انداز کردیا۔
اس بربریت اور پاکستان کے غیر انسانی اعمال کے باوجود بلوچ قوم اپنا جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ بلوچ تحریک آزادی سنہ 1948 کے اس تحریک آزادی کا تسلسل ہے جو خودمختار و آزاد بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے بعد شروع ہوا۔ گو کہ بلوچ قومی تحریک آزادی بلوچ قومی بقا کیلئے ہے لیکن اگر ہم اس تحریک کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ہم آسانی سے اس بات کا ادراک کرسکتے ہیں کہ بلوچ آج ایک وحشی درندے کے خلاف لڑرہا ہے۔وہ وحشی درندہ جس نے بھارت ، افغانستان اور پوری دنیا کا امن تہہ و بالا کیا ہوا ہے۔وہ درندہ جو کھلے بندوں طالبان اور دوسرے شدت پسند دہشتگرد گروہوں کیلئے اپنے حمایت کا اظہار کرتا ہے۔پاکستان کے فوجی جنرل جن میں جنرل نصیراللہ بابر ، جنرل اسلم بیگ اور دوسرے شامل ہیں ، طالبان اور دوسرے جہادی گروہوں کو پاکستان کا تزویراتی اثاثے قرار دیتے رہے ہیں۔انسانیت کے ان دشمنوں کو پاکستان فوج تربیت ، اسلحہ اور پیسہ فراہم کرکے دنیا کے کونے کونے میں بھیج کر قیامت صغریٰ برپا کرتا رہا ہے اور انہی عناصر کو بلوچستان بھیج کر انہیں آزادی پسند بلوچ سیاسی قوتوں کے خلاف بھی استعمال کرتا ہے۔
چونکہ اکثریتی بلوچ ان جہادی گروہوں کو یہ موقع مہیا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے بچوں کو دوسری اقوام و مذاہب سے نفرت کرنے جیسی شدت پسندانہ فلسفے کی طرف مائل کرسکیں ، لہٰذا ہم بلوچ عالمی دہشگردی کے خلاف جنگ کے اگلی صفوں میں کھڑے اس میں شامل ہیں، لیکن پھر بھی ہم ہمیشہ واجب عالمی توجہ اور حمایت سے محروم رہے ہیں۔مہذب اقوام عالم فلسطین ، یوکرین ، عراق ، شام ، لیبیا اور دوسرے جگہوں پر ہونے والی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہیں ، لیکن انہوں نے بلوچستان میں ہونے والے قتل عام اور بلوچوں پر ہونے والی پاکستانی ریاستی بربریت پر آنکھیں موند لی ہیں ۔
اقوام متحدہ کے کچھ رکن ممالک اپنے حیثیت کو صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطرہی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے ریاستیں خال ہی انسانیت کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایسے ممالک کو صرف اس وقت انسانی حقوق یاد آتے ہیں جب ان کے اپنے ذاتی مفادات کو خطرہ ہو یا انکے لسانی گروہ مشکل میں ہوں ۔پاکستان جو کہ اقوام متحدہ کا ایک رکن ملک ہے اور انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کنندہ ہے لیکن وہ پھر بھی بلوچوں کو حاصل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے اور 1948 سے لیکر ابتک بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے ۔چونکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دوسرے عالمی ادارے پاکستان کے بلوچستان میں جاری ان مظالم پر خاموش ہیں اسی لیئے پاکستان اب خود کو عالمی قوانین و ضابطوں سے بالا سمجھتے ہوئے بلوچستان میں ، ماورائے عدالت اغواء ، مارو اور پھینکو اور فوجی آپریشنوں کے شدت میں اضافہ کرتا جارہا ہے۔
پاکستان نے ایک منصوبے کے تحت معاشی طور پر بھی بلوچوں کو مفلوج کیئے رکھا ہے تاکہ بلوچوں کو خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور کیا جائے اور بلوچ اپنے زندگی کے بنیادی ضروریات کیلئے ہی فکر مند رہ کر اپنے قومی آزادی و قومی پہچان پر سوچ صرف ناکرے ۔تاہم عالمی فورموں پر پاکستان بلوچستا ن میں ترقی کیلئے میگا پروجیکٹس کے آغاز کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت یہ پروجیکٹس کچھ بھی نہیں ہیں ماسوائے بلوچستان کے وسائل کے وسیع تر لوٹ مار اور مردم نگارانہ تبدیلیاں لانے کے ، جن سے فائدہ محض پاکستانی پنجابیوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا ۔
حال ہی میں پاکستان نے چین کے ساتھ گٹھ جوڑ سے نام نہاد چین پاکستان معاشی راہداری کا آغاز کیا ، لیکن ایک بار پھر اسکا مقصد محض چین اور پاکستان کے مفادات کی بجاآوری ہے ۔بلوچوں کو اس سے ماسوائے تکالیف اور اپنے آبائی علاقوں سے ترقیاتی کاموں کے نام پر بیدخلی کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔اگر بلوچ گھروں کو تباہ کیا جارہا ہے ، بلوچوں سے بزور قوت گوادر اور تربت میں سینکڑوں ہزاروں ایکڑ اراضی خالی کیا جارہا ہے تاکہ چینیوں اور پنجابیوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے تو پھر پاکستان کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ راہداری بلوچوں کو فائدہ پہنچائے گی؟ یہ نام نہاد سی پی ای سی بلوچستان میں صرف مزید ہلاکتیں اور تباہی ہی لائے گی۔اسی لیئے بلوچوں کیلئے یہ ترقی کی نہیں بلکہ موت کی راہداری ہے ۔
ہم امید رکھتے ہیں کہ بھارت بلوچستان کے بارے میں ایک واضح پالیسی رکھے گی کیونکہ پاکستان کا کشمیر کے بارے میں موقف بالکل واضح ہے اور کشمیر میں پاکستانی مداخلت اب ایک کھلا راز ہے ۔اگر پاکستانی آفیشل کشمیریوں سے کھلے عام مل سکتے ہیں تو پھر بھارت بھی ایسا کیوں نہیں کرسکتا؟ اگر پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں بات کرسکتی ہے تو پھر بھارت اقوام متحدہ میں بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو کیوں اجاگر نہیں کرسکتا؟دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے اور جنوبی ایشیاء میں ایک قوت ہونے کے ناطے ہم بھارت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ بلوچ قومی تحریک آزادی کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کریگا ۔
بھارت کو بلوچوں کی مدد نا کرنے کا اپنے تاریخی غلطی کا ازالہ کرنا چاہیئے ۔1947 اور 1948 میں بلوچوں نے بھارت سے مدد کی درخواست کی تھی لیکن اس پر بھارتی ردعمل مایوس کن تھا ، کیونکہ انکو اندازہ نہیں تھا کہ اس شیطانی ریاست پاکستان کو محض نفرت کے بنیاد پر قائم کیا جارہا ہے۔اگر اس وقت بھارتی قیادت بلوچوں کی مدد کرتا تو پھر آج بھارت ، افغانستان اور دوسرے ممالک کو پاکستانی دہشتگردی کا سامنا نہیں ہوتا ۔
عالمی ذرائع ابلاغ فرانس کے برابر خطے بلوچستان کو مکمل نظر اندا ز کیئے ہوئے ہیں ، جہاں پاکستان روزانہ کے بنیاد پر بلوچوں کو اغواء کرنے اور قتل کرنے میں مشغول ہے ۔بلوچستان میں ایک بھی عالمی صحافی موجود نہیں ہے ۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں جیسے کے ریڈ کراس ، جبری گمشدگیوں پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپس، یونیسیف اور دوسرے گروہوں کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ پاکستان کے جبر کے شکار بلوچوں کی مدد کریں ۔ یہ صرف بلوچوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے کہ دنیا لاکھوں بلوچوں کو صرف پاکستان کو خوش رکھنے کی غرض سے نظر انداز کررہا ہے ۔اس لیئے ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی عوام اور بھارتی ذرائع ابلاغ بلوچستان کے حقیقی حالات کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریگی اور پاکستان کے زیر قبضہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ، بلوچستان ، گلگت بلتستان ، سندھ اور بختونستان کے مظلوم اقوام کی آواز بنے گی ۔
شکریہ

Share on
Previous article

انڈیا میں بلوچستان پر سیمینار بلوچ رہنما حیربیار مری کا پیغام

NEXT article

کھنیں دپتر— — گپ و ترانے گون شھید نواب محمد اکبر بگٹيءَ گون ریڈیو بلوچيءِ

LEAVE A REPLY