بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

MUST READ

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

کوردستـــان ءِ پلیـــں شهیـــدان ءَ هـــزاراں ســـــلام

کوردستـــان ءِ پلیـــں شهیـــدان ءَ هـــزاراں ســـــلام

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

فارغ التحصيـلان بلــوچ در خارج متشـــکل شويــد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

روز شهــدای بلوچستـان گرامـی باد

گپ و ترانے گون اوغانستانءِ بلوچ شورایءِ سروک واجه شیرآقاءَ

گپ و ترانے گون اوغانستانءِ بلوچ شورایءِ سروک واجه شیرآقاءَ

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء اور نہتے شہریوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک هے – ڈاکٹر اللہ نذر

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

واکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

دَرآمدیں گُشتاسبی کئے اِنت؟

دَرآمدیں گُشتاسبی کئے اِنت؟

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مشکے میں ریاستی فوسز کی جانب سے گذشتہ پانچ روز سے جاری آپریشن

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مشکے میں ریاستی فوسز کی جانب سے گذشتہ پانچ روز سے جاری آپریشن

شماری ازترفنـدهای اشغالگـران برای حفظ خط مرزی ژنرال ” گـُلد سميـت “

شماری ازترفنـدهای اشغالگـران برای حفظ خط مرزی ژنرال ” گـُلد سميـت “

پنجابی چین کے ساتھ ملکر اپنے مفادات کے تحت بلوچ نسل کشی میں تیزی لا رہا ہیں .حیربیار مری

پنجابی چین کے ساتھ ملکر اپنے مفادات کے تحت بلوچ نسل کشی میں تیزی لا رہا ہیں .حیربیار مری

کراچی کے بلوچ پاکستانی سیاست کی فریب سے خود کو آزاد کریں :حیربیار مری

کراچی کے بلوچ پاکستانی سیاست کی فریب سے خود کو آزاد کریں :حیربیار مری

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

شهزانــــتیں صبا دشتیاری نمیران انت

شهزانــــتیں صبا دشتیاری نمیران انت

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-25 15:25:26
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY