بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

MUST READ

گپ و ترانے چا گیبنءَ گون شهید حیات بیوسءِ گهارءَ

گپ و ترانے چا گیبنءَ گون شهید حیات بیوسءِ گهارءَ

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

بلوچ نوجوانوں سے اپیل ھے کہ وہ بلوچ رائٹس کے تحت وہ اس ریاستی جرم کے خلاف آواز بلند کریں

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

بلوچستانءَ انسانی حقانی لگتمالی ءُ زوراکیانی آماچ بوتگین بلوچانی فریات – اولُی بهر

شھید پروفیسر صبا دشتیاری

شھید پروفیسر صبا دشتیاری

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

واگذاری کنترل بخشی ازمرز سراوان به نيروی تروريستی قدس

بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہشمند نہیں ہیں- حیربیار مری

بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کی خواہشمند نہیں ہیں- حیربیار مری

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

پاکستان دہشت گردی وسیاسی مفادات کے لیے مذہب کا استعمال کرکے مسلمانوں پہ ظلم کررہا ہے: حیر بیار مری

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

درماندگی فاشیسم تمامیت خواه پارس

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

نواب اکبرخانِءِ سالروچءِ درگتءَ تران

بيست و هفتم مارس  روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

بيست و هفتم مارس روزی سياه در تاريــخ بلوچستــــان

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے 28 مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور چین اور پنجابی کی بلوچستان میں آبادکاری کے خلاف مغربی ممالک میں احتجاج کیا جائے گا

بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءِ کلو پا 27 مارچءِ بابتءَ

بلوچ قوم دوست رھنما واجہ حیربیار مريءِ کلو پا 27 مارچءِ بابتءَ

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

بر دانش آموزان بلـوچ چه می گـذرد؟ – بخش پنجـم

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

گپ و ترانے گون بیگواهین محمد اقبال بلوچءِ برات محمد انور بلوچءَ1اگست

آزادی

آزادی

بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی وہلاکت افسوسناک و قابلِ مذمت ہیں:بی ایچ آر او

2020-03-27 14:43:10
Share on

کوئٹہ/ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگی اور ہلاکت کے واقعات کو افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق اور احترام کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں خواتین شدید متاثر ہورہے ہیں۔فورسز کی کاروائیوں سے جہاں چاردیواری کی تقدس کی پامالی اور گھر میں موجود خواتین و بچوں پر تشدد کی واقعات رپورٹ ہورہی ہیں، وہیں بلا احتیاط فائرنگ کی وجہ سے خواتین کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات بھی افسوسناک طور پر روز کا معمول بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کارکنوں اور تنظیموں کی نشاندہی کے باوجود حکومت سیکیورٹی فورسز کو پابند نہیں کررہی ہے کہ وہ نہتے خواتین و بچوں پر تشدد یا انہیں فائرنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت کی عدم توجہی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے فورسز کے ہاتھوں اس طرح کی کاروائیاں بارہا رونما ہو چکے ہیں۔سترہ اگست کو پنجگور کے علاقے بالگتر میں ایک گھر پر فورسز کی فضائی شیلنگ سے شمس خاتون ولد یوسف نام کی ایک خاتون ہلاگ ہوگئی، اس کے علاوہ ہرنائی کے علاقوں میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین زخمی ہوئے تھے، جنہیں ان کے لواحقین نے علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کردیا، لیکن اطلاعات کے مطابق ان زیر علاج زخمی خواتین کو فورسز اپنے ساتھ لے گئے ہیں، تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں۔ اس پہلے بھی خواتین فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک اور فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات پر میڈیا اور حکومتی ادارے مکمل خاموش ہیں۔ اس بات کا غالب امکان موجود ہے کہ اگر فورسز کو بلوچستان میں کاروائیوں کی مزید چھوٹ دی گئی تو اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بی ایچ آر او نے مطالبہ کیا کہ فورسز کو اس طرح کی کاروائیوں سے روکنے، نہتے لوگوں کو اغواء کرنے یا فائرنگ کا نشانہ بنانے سے روکنے کے لئے انسانی حقوق کے کارکن موثر آواز اٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکھاجا سکے۔

Share on
Previous article

جنگی مجرم مشرف ءِ رسوایی

NEXT article

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

LEAVE A REPLY