سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

MUST READ

قلات و نوشکی میں بڑے پیمانے پہ فوجی نقل و حرکت کی اطلاع

قلات و نوشکی میں بڑے پیمانے پہ فوجی نقل و حرکت کی اطلاع

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

ہم غلام ہیں،مسخ شدہ لاشیں ملنے کے ساتھ بلوچ عورتوں پر تیزاب پھینکنے کا سلسلہ پاکستانی فوج ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں بلوچ قوم دوست رہنما حیربیار مری

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

اوجگیری جنبش استقلال طلبانه بلوچستـان و سبعیت ارتش پاکستان

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گیبن کیچءَ 13 اپریلءَ 2015 پاکستانی فوجی آپریشنءِ حقیقت

گوانک خضدارءِ ھندی حالکار شھید فرید دلاوری (ملوّک جان)ءِ شهادتءِ دومّی سالروچءَ گوانگءِ ٹیم آئيءِ جُھدا پا بلوچستانءِ آجوئی کاروانءَ ستا دنت

گوانک خضدارءِ ھندی حالکار شھید فرید دلاوری (ملوّک جان)ءِ شهادتءِ دومّی سالروچءَ گوانگءِ ٹیم آئيءِ جُھدا پا بلوچستانءِ آجوئی کاروانءَ ستا دنت

ڈاکٹرحنیف شریف

ڈاکٹرحنیف شریف

بالاچ” مبارک قاضی “

بالاچ” مبارک قاضی “

گپ و تران گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسنزءِ وائس چیرمین واجہ قدیر بلوچءَ مروچی 18 روچ انت کہ چا کراچيءَ لونگ مارچ دیم پا اسلام آبادءَ روگ انت

گپ و تران گون وائس فار بلوچ میسنگ پرسنزءِ وائس چیرمین واجہ قدیر بلوچءَ مروچی 18 روچ انت کہ چا کراچيءَ لونگ مارچ دیم پا اسلام آبادءَ روگ انت

اکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

اکنش مسئولانه مردمی به درگیری بین بی۰ ال۰ اف و جیش العدل

بلوچ قوم کو قابض کی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں رکهنا چاہیے :حیربیار مری

بلوچ قوم کو قابض کی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں رکهنا چاہیے :حیربیار مری

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

مقبوضہ سندھ میں پولیس کے اختیارات رینجرزنامی آرمی کے ایک شاخ کے ہاتھوں میں ہیں – چیئرمین خلیل بلوچ

موضع دولت بحرین باید صریح تر باشد

موضع دولت بحرین باید صریح تر باشد

من اگت در ملکءَ روان منی جان رکھیت ، بلہ اے ھزارانی بزگین مھلوک ءُ وتی زمینءَ ھلاس بہ کناں پا من انگت گرانترین مرگءِ بیت – قمبر چاکر 2010

من اگت در ملکءَ روان منی جان رکھیت ، بلہ اے ھزارانی بزگین مھلوک ءُ وتی زمینءَ ھلاس بہ کناں پا من انگت گرانترین مرگءِ بیت – قمبر چاکر 2010

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

بلوچ دژمنیں سپاہ ڈیہ ءِ جنیں آدماں بندی کنگ اِنت

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

خاطره شهدای دِزَّک و هُشَّک جاودان خواهد ماند

سلگتا بلوچستان اور اقوام متحدہ کی خاموشی ؟……ڈاکٹر منان بلوچ

2020-03-26 10:15:48
Share on

جب سے انسان کا وجود عمل میں آیا ہے،جانوروں سے لیکر خاندانوں تک قبائلیوں سے لیکر قابض تک دنیا میں انسان اپنے وجود کے ساتھ قتل و غار ت گری کی طویل دورسے گزرتا گیا،جب تمدنی ترقی عمل پذیر ہوئی انسانوں نے اپنی فلاح و سہولیات کیلئے جہاں خوبصورت چیزیں بنانے میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کارلایا وہیں اپنی تباہی کیلئے جدید سے جدید تر ہتھیار بنا کر اپنی تباہی کو نئی شکل اور ترتیب دیدی۔ دنیا کے کئی خطوں پر چرچ سلطنت عثمانیہ کی حکمران کیساتھ ساتھ برطانیہ، پرتگالی، روس، فرانس، جرمنی ڈچ مختلف علاقوں کو قبضہ کر نے کیلئے ایک دوسرے کو جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر گاجر مولی کی طرح کاٹتے رہے ۔بے قاعدہ جنگوں نے 1914 سے 1919 تک جنگ عظیم اول 1939 سے 1945 تک جنگ عظیم ددئم کی شکل میں باقاعدہ جنگی کیفیت دھار کر دنیا کے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔ اس تباہی کے بعد ایک طرف برطانیہ، جرمنی، روس ،امریکہ ،فرانس وغیرہ ،جہاں اپنی مقبوضہ علاقوں کو بلاواسطہ اپنے قبضے میں رکھنے کیلئے طاقت کھو بیٹھے وہیں 1945 کو ان ممالک نے اقوام متحدہ کی شکل میں بظاہر ایک طاقتور اور با اختیار عالمی ادارہ کی داغ بیل ڈالی اور یہ فیصلہ ہوا کہ آئندہ کسی طاقت ور ملک یا قوم کو کسی ملک یا قوم کو محکوم یا غلام بنانے کا اختیار نہیں ہوگا،اسی طرح ماحولیات کو پاک کرنے کیلئے ہتھیاروں کی عدم پھیلاؤ پر اتفاق ہوا۔صحت تعلیم اور انسانی فلاح کے متعلق کئی خوبصورت الفاظ کاغذوں کی زینت بن گئے اور جنگ سے تباہ حال انسانوں نے سُکھ کا سانس لیا۔اور 1945 کے بعد بہت سارے اقوام ان طاقتور ممالک کی براہ راست قبضہ سے آزادی حاصل کرتے گئے ۔جن میں برصغیر بھی شامل ہے لیکن اتفاق دیکھے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد امریکہ کو جو طاقت حاصل ہوچکی تھی اس نے برطانیہ کیساتھ ملکرروس کیخلاف مستقبل کیلئے بلواسطہ طور پر بر صغیر کوآزادی کے بدلے تقسیم کرکے پاکستان جیسے با جگزار کی داغ بیل ڈالی ۔پاکستان کا قیام جہاں عظیم تر ہندوستان کے خواب کو چکنا چور کر دیا وہیں ایک اور عظیم خط بلوچستان کی آزادی و خود مختیاری پر کاری ضرب ثابت ہوئی ۔گیارہ اگست 1947 کو باقاعدہ ایک آزاد وطن پر 27 مارچ 1948کو اقوام متحدہ کی خوبصورت فیصلوں کے چشم زدن میں بلوچ وطن پاکستانی جارحیت کا شکار بن گیا۔چونکہ اقوام متحدہ کا قیام ہی برطانیہ امریکہ ،روس،فرانس،وغیرہ کی پالیسیوں کا حصہ تھا،امریکہ اور برطانیہ کی خواہش پر ہی پاکستانی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر میں بڑے خوبصورت الفاظ کے ساتھ یہ کیا گیا ہے کہ ہر قوم کو اپنی تاریخ زبان جغرافیہ کے مطابق اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق ہے لیکن 3 یا4 سال بعد ہی بلوچ قوم کی اس خواہش کو بلواسطہ حکمرانی کی حوس نے روند ڈالا لیکن بلوچ قوم اس غیر انسانی اقدام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔امریکہ جو سائیکلون آپریشن کی پالیسیوں کے تحت بر صغیر میں پہلے سے ہی مذہبی انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔پاکستان نے سینٹو یا سیٹو معاہدات کے ذریعے اس آپریشن کیلئے بہتر خدمت انجام بجالانے کا اظہار کرکے جو بے پناہ معاشی و عسکری طاقت حاصل کرلی، اس طاقت کا بھر پور استعمال کیا۔اور بلوچ قوم کی جہد آزادی کے خلاف کسی قانون کو خاطر میں لائے بغیر ہزاروں بلوچ فرزندوں کو شہید کردیا۔1949 کو آزادی حاصل کرنے والے چین نے 1999 کو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا، سعودی عرب اور امریکہ کی امداد کے ساتھ چین کی اس نئی پالیسی نے پاکستان کو ایک خطرناک طاقت فراہم کردی ۔گوادر کو ہتھیانے وہاں پر اپنی بحری بیڑہ بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے قبضہ میں لا کر بلوچ وطن کی زمین کو استعمال کرتے ہوئے کا شغر تک ریل اور سڑک کے ذریعے بلوچ وطن وسائل جوکہ ریکوڈک اور سیندک کی شکل میں پہلے ہی چین کے قبضہ میں ہیں ۔ان کے علاوہ باقی ماندہ معدنی و آبی و سائل اور دنیا کے مختلف کونوں سے حاصل کردہ وسائل سے رسائی کی خاطر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت بلوچ قوم کی نسل کشی میں براہ راست شریک ہوگئی اور آج تک چین پاکستان کی اِس خطرناک طاقت نے ہزاروں بلوچ فرزندوں کو شہادت کے رتبے تک پہنچایا ہے۔ہزاروں فرزند پاکستانی عقوبت خانوں میں موت وزیت کی کشمکش سے دوچار ہیں، لاکھوں گھرانے ملیامیٹ ہوچکے ہیں۔اور بلوچ قوم کی 80 فیصد کی زیادہ آبادی آسمان تلے بے سروسامانی کے عالم میں کرب ناک حالت سے دوچار ہیں۔مگر اقوام متحدہ نے آج تک تمام تر حقائق کو جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی ہے۔یقیناًمیں بحیثیت بلوچ چین کی سامراجی عزائم کے ذریعے پاکستانی فوج کی کاروائیوں سے درد و کرب میں بلک رہا ہوں تومیرے لیے اب یہ ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے کہ ایسے عالمی اداروں کا قیام چہ معنی دارد۔ جب وہ اپنے ہی پالیسیوں پر عمل کرنے میں ناکام ہوں۔ میں دنیا کے تمام مظلوم عوام سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ ایسے اداروں کے قیام اور بے عمل حیثیت کے بارے میں ضرور سوچیں کیونکہ یہ ادارے لوگوں کی ٹیکسوں سے چلتے ہیں،اگر یونان کے عوام اپنی قوم وجود و بقاء کی خاطر عالمی بینک اور I.M.F کے خلاف اپنی رائے دے سکتے ہیں،یا ہنگری دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے معیشت زدہ لوگوں کیلئے اپنی ہی مستقبل کو سامنے رکھ کر یورپی یونین کے ٖفیصلہ کے برعکس اپنی سرحدوں کو بند کر سکتا ہے،یا جرمنی کے عوام ان مہاجرین کے سلسلے میں اپنی حکومتی فیصلہ کے خلاف تحفظات کے اظہار کر سکتے یا برطانیہ عظمی کے عوام حالیہ الیکشن میں یورپی یونین کے اندر اپنی وجود کھو جانے کی خوف سے برطانیہ کی آزاد حیثیت کیلئے ووٹ ڈال سکتے ہیں تو پھر مجھے بھی بحیثیت انسان یہ حق حاصل ہے کہ میں گولی و بارودکے فضاء میں ایسے عالمی اداروں کیلئے اپنی تحفظات کا اظہار کر سکوں۔

Share on
Previous article

بولانءِ دمگ لکڑ ءُ پل کڑیءَ پاکستانی هوائی فوجءِ بمب گواری – نوکترین ریڈیو حال

NEXT article

کسان سالیں بلوچ دُهتگان بی بی صورت ، سکینہ ءُ سمینہ انگت شکارپور سندهءَ قید انت – گپءُ ترانے گون یکے چا بیگواهیں بلوچ دُهتگانی ماتءَ

LEAVE A REPLY