نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

MUST READ

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟

بلوچستان ءِ راجی جنزءِ دیمپان چے اَنت؟

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

پاکستان پنجابیوں کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے: حیر بیار مری

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

طرح تقسیم بلوچستان خیانتی است بزرگ به ملت بلوچ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

بلوچ نسل کشی میں تیزی لائی گئی ہے ، خلیل بلوچ

صبا دشتیاری نمیران انت

صبا دشتیاری نمیران انت

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

تکانسـریـں خامنه ای: ایران ٹُکُّــرٹُـکُّــربیـت

از شیخ خزعل تا شهید احمد نیسی

از شیخ خزعل تا شهید احمد نیسی

An interviw with Smruti S. Pattanik Institute for Defence Studies and Analyses

An interviw with Smruti S. Pattanik Institute for Defence Studies and Analyses

تربت سے ایف سی اور پاکستانی خفیہ اداروں کی توسط سے اغواہ شدہ بلوچ نوجوان کی تشدّد شدہ لاش برآمد

تربت سے ایف سی اور پاکستانی خفیہ اداروں کی توسط سے اغواہ شدہ بلوچ نوجوان کی تشدّد شدہ لاش برآمد

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

انساندوستیں بلوچانی کمک کاری ءُ بلوچ دژمنیں سپاہ ءِ تکانسری

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

کوئٹہءَ هیلته آفیسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچءِ بیگواهیءِ بابتءَ گپ و ترانے گون ڈاکٹر کمال هان بلوچءَ

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

تجاربی خونین از مذاکرات با اشغالگران

Independence Movement of Balochistan-

Independence Movement of Balochistan-

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

بولان سے بلوچ خواتین کی اغواء ، پاکستان بنگلہ دیش کی تاریخ دہرا رہا ہے: فرزانہ مجید بلوچ

شھمیر اکبرخان مدامی نمیران انت

شھمیر اکبرخان مدامی نمیران انت

نہ چاہتے ہوئے بھی – کردگار بلوچ

2020-03-24 12:42:01
Share on

ویسے جب اس ریاست نے بلوچ قوم کی شہری حقوق ختم کرکے اسے تمام انسانی بنیادی حقوق سے محروم کر دیا تب سے ہم نے بھی ایک بلوچ ہونے کے ناطے اپنی فکری ، سیاسی ، سماجی رشتے اس ریاست سے توڑ دیے۔اور تب سے ایسی کسی بات کے بارے میں سوچنا اور لکھنا تک چھوڑ دیا جس میں اس ریاست کی سیاسی،سماجی یا فکری وابستگی ہو،مگر کل ہمارے ایک مہربان قاری جو نہ صرف ہمارے کالم غور سے پڑھ لیا کرتے ہیں بلکہ پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں ہمیں اپنے تاثرات سے آگاہی بھی دیتے رہتے ہیں نے ایک ’’ایمیل‘‘ کے ذریعے ہم سے استدعا کی کہ ہم پاکستانی سیاست کے حوالے سے عمران خان کی ’’آزادی مارچ‘‘ اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی ’’انقلاب مارچ‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔
یہ ’’ایمیل ‘‘پڑھ کر یقین جانیے کہ مجھے ہنسی آئی اپنے اس پڑھے لکھے مگر سادہ بلوچ کی سادگی پر۔آپ اس بات سے ہم بلوچوں کی سادگی ملاحظہ کیجیے کہ کوئی ستاسٹھ سالوں کی غلامی میں رہ کر بھی اب تک ہم اپنے آقاؤں کی شاطرانہ مزاج سے نابلد ہیں ۔لیکن اب چونکہ مجھے اپنے اس پیارے قاری کے حکم کی تعمیل کرنا ہے اس لئے ایک چھوٹی سی کالم کے ذریعے اس کی تعمیل کرنے کی جسارت کر رہا ہوں تاکہ دوسرے سادہ لوح بلوچ بھائی بھی جو اس سوال کو خیال میں رکھے ہوئے ہیں ان کو بھی اس کا جواب مل سکے۔
مجھے یقین ہے کہ میرے قارئین اسلام آباد اور راولپنڈی کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام آباد شہر کو ایک فوجی آمر ایوب خان نے سندھ کو پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کرنے کی جرم کی سزا دینے کے لئے پاکستان کے دارالخلافہ کو کراچی سے اٹھاکر اپنے ھیڈ کوارٹر کے نذدیک رکھنے کی خاطر راولپنڈی کے کھوکھ سے نکالاہے اور آج کی نئی اصطلاح میں ان دونوں شہروں کو’’ جڑوان شہر‘‘ کہتے ہیں جو ایک دوسرے سے صرف سولہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں اور یقیناً میرے قارئین یہ بھی جانتے ہیں کہ جڑواں بھائی یا جڑواں بہنوں کا رشتہ کس قدر گہرہ اور کس طرح مضبوط ہوتا ہے۔اسی طرح ان دونوں شہروں کا رشتہ بھی باھم اسی طرح مضبوط اور گہرہ ہے۔لیکن راولپنڈی کی پہچان پاکستان کے فوج کے جنرل ھیڈ کوارٹر یعنی ’’GHQ‘‘ سے ہے اور اسلام آباد کی پہچان پاکستان کی برائے نام سب سے بڑی ادارہ ’’پارلیمنٹ‘‘ کی وجہ ہے۔لیکن جس طرح اسلام آباد کو ایک فوجی آمر نے تعمیر کیا ہے اسی طرح اس میں تعمیر ہونے والی پارلیمنٹ بھی راولپنڈی کے آمروں کی تعمیر کردہ ہے اور اس میں بیٹھنے والے سیاسی قائدین بھی راولپنڈی کے آمروں کی آشیر واد سے رکھے یا نکالے جاتے ہیں۔ بلکہ زیادہ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کے قابل اقتدار سیاسی پارٹیاں ہی راولپنڈی کی تشکیل کردہ ہیں۔لیکن اس گہری اور والہانہ محبت کے باوجود راولپنڈی کے GHQاور اسلام آباد کی پارلیمنٹ کے مفادات الگ تھلگ ہیں اور بسا اوقات باھم متصادم بھی رہتے ہیں۔اسی مفادات نے ان دونوں جڑواں بھائی یا بہنوں میں اس قدر دوری پیدا کردی ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کو Bloody Civilianسمجھتی ہے اور اسلام آباد راولپنڈی کو Dictatorکے نام سے پکارتی ہے۔اور پھر اسلام آباد بھی دو الگ جڑوان بھائیوں کی ملکیت ہے جن میں ایک کو سرمایہ دار اور دوسرے کو جاگیردار کہتے ہیں اور خدا کی قدرت دیکھئے کہ ان دونوں جڑواں بھائیوں کی بھی مفادات الگ الگ اور باھم متصادم ہیں۔
1970 ؁ سے پہلے ان دونوں شہروں کو عملاً راولپنڈی میں واقع GHQہی کنٹرول کیا کرتی تھی مگر جب باامر مجبوری1970 ؁ میں راولپنڈی کے ایک آمر نے One man One Voteکا انتخابی طریقہ اپنایا تو اس انتخابات کے نتائج راولپنڈی کی توقعات کے بر خلاف نکلے۔ اس کے نتائج کو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ڈالتے ہوئے محمد علی جناح کی پاکستان کو ذوالفقار علی بٹھو کی پاکستان بنانا پڑاتھا اور پھر راولپندی کے کوئی ترانوے ہزار اہلکار بھی بھارت دشمن کی قیدی بنے تھے۔
تب سے راولپنڈی نے اسلام آبادکو ایک بار پھر اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہا اس کے لئے سندھی جاگیردار ذوالفقار علی بھٹو کو ان کی تمام تر احسانات کے باوجود دودھ مین پڑی مکھی کی طرح نکال باہر کیا ۔مگر چونکہ بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک میں تواتر کے ساتھ آمریت کو پسندگی کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی ہے اس لئے راولپنڈی کو اس ملک میں اپنی آمریت کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھنا پڑا۔ اور اس کا طریقہ واردات یہ رکھا ہے کہ برائے نام انتخابات ہوں اور نتائج وہ اپنی مرضی کے نکال لیں تاکہ ان کی پسند کے لوگ اس ملک کے برائے نام کے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائیں۔
لیکن چونکہ اسلام آباد میں سرمایہ دار اور جاگیردار نام کے دونوں جڑواں بھائیوں کے مفادات الگ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اسلام آباد کی پارلیمنٹ پر براجمان ہونے کی کوشش کرتی ہے اور ان کا بھی طریقہ واردات یہی ہے کہ وہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو الیکشن کم

Share on
Previous article

گپ وتران گون شہید محمد اکبر خان بگٹی ء 20060402 گون ریڈیو بلوچی ایف ایم

NEXT article

پدا مئے بچ بالاچ انت – طلاءُ سنجگءُ ساچین – بشیربیدار

LEAVE A REPLY